
تمام درانی ابدالی ہیں، لیکن تمام ابدالی درانی نہیں ہیں۔ (یہ معلومات تاریخ احمد شاہی، سراج التواریخ اور د پښتنو قبیلو شجرې کی روشنی میں مرتب کی گئی ہیں)
پختون تاریخ میں ابدالی اور درانی دو لفظ اکثر ایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں جس سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ آئیے اس فرق کو تاریخی حوالوں سے واضح کرتے ہیں۔
1. ابدالی: قوم کا اصل اور قدیم نام۔ ابدالی ایک قدیم اور بڑی پختون قوم ہے جس کا مرکز تاریخی طور پر قندھار اور ہرات رہا ہے۔ اس قوم کی درجنوں شاخیں اور قبیلے ہیں، یعنی ابدالی ایک قوم ہے، اور درانی اس قوم کی ایک شاخ کا سیاسی لقب ہے۔
2. درانی کا لقب کیسے اور کسے ملا؟ 1747ء میں احمد شاہ ابدالی کی تاجپوشی کے بعد انہیں دُرِّ دُوران (Dur-e-Dauran) یعنی "اپنے وقت یا زمانے کا نایاب موتی" خطاب ملا۔ اسی سے درانی بنا۔
لیکن یہ لقب صرف احمد شاہ کی ذات تک محدود نہ رہا۔ جب وہ بادشاہ بنے تو ان کے ساتھ ان کی حکمران شاخ سدوزئی اور پوپلزئی کو بھی درانی کہا جانے لگا۔ کیونکہ ریاست اور حکومت انہی کے خاندان کے پاس تھی۔
بعد میں 1826ء میں جب بارک زئی شاخ نے حکومت سنبھالی تو انہوں نے بھی درانی کی نسبت برقرار رکھی کیونکہ وہ بھی ابدالی ہی تھے اور انہوں نے درانی ریاست کو آگے چلایا۔
3. درانی کا لقب نسلی نہیں بلکہ سیاسی اور خاندانی نسبت ہے۔
4. درانی صرف وہ ابدالی ہیں جو سدوزئی، پوپلزئی اور بارک زئی حکمران خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تینوں شاخیں 1747 سے 1978 تک افغانستان کی حکمران رہیں۔
ابدالیوں کی باقی تمام شاخیں بھی معزز ابدالی ہیں لیکن تاریخی طور پر کبھی حکمران نہ ہونے کی وجہ سے انہیں درانی نہیں کہا جاتا۔ یہ اپنے اصل نام ابدالی سے ہی مشہور ہیں۔ مثال کے طور پر قریش ایک بڑا قبیلہ ہے، لیکن ہاشمی صرف بنو ہاشم کے لیے بولا جاتا ہے۔ اسی طرح ابدالی بڑی قوم ہے، اور درانی اس قوم کے حکمران گھرانوں کا لقب ہے۔
مآخذ
- 1. — Mahmud al-Husayni al-Munshi
- 2. — Faiz Muhammad Katib Hazara



