قبائلی تاریخ

بنی اسرائیل اور افغان کا تعلق

افغان قوم کا تعلق بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل سے جوڑنے والے نظریے، تاریخی دعووں، نسب ناموں اور ثقافتی مماثلتوں کا ایک جائزہ۔

غیر مصدقہ / زبانی روایتعمران بنگش · 16 September 2026 · 8 منٹ مطالعہ
بنی اسرائیل اور افغان کا تعلق

اسلام کی آمد ان پہاڑی علاقوں میں، جنہیں آج ہم افغانستان کہتے ہیں، مگر جنہیں ہندوستان خود خراسان کہنا زیادہ پسند کرتا ہے، ہمیں اس بات کی داستان تک لے جاتی ہے کہ افغانستان کا نام کہاں سے نکلا، اس کا مطلب کیا ہے، اور وہ افغان کون ہیں جن کے نام پر پورے علاقے کا نام رکھا گیا۔ یہ بات شمال مغربی سرحد کی تاریخ کے لیے آج بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ایک ہزار سال پہلے تھی۔

جو کچھ کبھی آریائی ہندوستان کا حصہ تھا، اس تاریخ کا یہ باب بھی، تقریباً ہر دوسری چیز کی طرح، ان لوگوں سے جڑ جاتا ہے جنہیں ولیم بولیتھو ’’ابدی ہم عصر‘‘ کہتے ہیں—یعنی یہودی۔

اسلام کی آمد سے غالباً کچھ عرصہ پہلے، ایک قوم قندھار کے آس پاس کے علاقے میں آ کر آباد ہوئی۔ بعد میں انہوں نے غور کے پہاڑوں کو اپنا مسکن بنا لیا۔ یہ قبیلہ ان بہت سے قبائل میں سے ایک تھا جنہوں نے 'روہ' یعنی اس خطے کی آبادی کو تشکیل دیا۔ اسی قبیلے کی نسبت سے یہ ملک افغانستان، یعنی ’’افغانوں کا ملک‘‘، کہلانے لگا۔

یہ قبیلہ بظاہر ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے نئے مذہب، یعنی اسلام، کو سب سے پہلے قبول کیا۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اسرائیل کے بادشاہ ساؤل کے بیٹے افغانہ (Afghana) کی اولاد بتاتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ افغانہ بنی اسرائیل کے لشکروں کا سپہ سالار تھا۔

البتہ اپنے زیادہ معروف جدِ امجد کے طور پر وہ کیش یا قیس (Kish یا Kais) کو پیش کرتے ہیں، جو ان کے مطابق ساؤل سے اٹھارہویں پشت میں تھا۔ یہ قبیلہ جو وقت کے ساتھ ایک پوری قوم بن گیا، آج بھی اپنے آپ کو بنی اسرائیل، یعنی ’’اسرائیل کی اولاد‘‘، کہتا ہے۔

چونکہ یہ ایک باوقار اور طاقتور قبیلہ تھا، اور اس کے قبضے میں اس علاقے کا ایک بہترین حصہ تھا جسے آج ہم افغانستان کہتے ہیں، اور اسی قبیلے کے ایک سردار نے افغان اقتدار کی بنیاد رکھی اور جسے درانی سلطنت کا نام دیا، اس لیے ترک نسل سے تعلق رکھنے والے قبائل کے علاوہ تقریباً تمام مسلمان قبائل نے بھی خود کو اسی نسل کی شاخیں قرار دینا شروع کر دیا۔

افغان نسب نامہ لکھنے والے بھی انہیں یہ نسبت دینے کے لیے بہت بے تاب تھے۔ چنانچہ تقریباً ہر پٹھان قبیلہ خود کو اسی نسل سے تعلق رکھنے والا قرار دیتا ہے، حالانکہ یہ بات یقینی ہے، جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے، کہ ان میں سے بہت سے قبائل جٹ یا راجپوت نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

پنجاب کے مسلمان راجپوتوں اور پٹھانوں کی خصوصیات کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑی ماحول اور حکومتی کنٹرول سے آزادی نے ایک طرف، اور پنجاب کے میدانوں میں نسبتاً منظم زندگی نے دوسری طرف، اگرچہ کچھ فرق پیدا کیا ہے، لیکن بنیادی طور پر دونوں میں کوئی بہت بڑا فرق نہیں ہے۔

تمام پٹھان، خواہ وہ درانی ہوں یا کسی دوسرے قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں، بالآخر فارسی سے ماخوذ زبان پشتو بولتے ہیں، اگرچہ زبان کسی نسل کا قطعی معیار نہیں ہوتی۔

اس کی ایک آسان مثال بوئرز کی ہے۔ ان میں بڑی تعداد فرانسیسی ہیگونو (Huguenot) لوگوں کی تھی، جیسا کہ ان کے ناموں سے بھی ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ اصل ڈچ نسل کے لوگ۔ اس کے باوجود ان کی زبان، جسے آج کل افریقی زبان (Afrikaans) کہا جاتا ہے، میں فرانسیسی الفاظ موجود نہیں ہیں۔

درانیوں کا اسرائیل سے اپنی نسل ملانے کا دعویٰ ممکن ہے کہ درست ہو، بشرطیکہ ’’اسرائیل‘‘ سے مراد عبرانی لیا جائے۔ اس بات کا امکان اور بھی زیادہ ہو سکتا ہے کہ وہ گم شدہ قبائلِ اسرائیل میں سے کسی قبیلے کی اولاد ہوں، کیونکہ فارس کی وادیوں کے راستے نقل مکانی کرنا کوئی بہت بڑی ہجرت نہ ہوتی۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بابلی اسیری کے زمانے میں بکھر جانے والے یہودیوں کی کسی شاخ کی اولاد ہوں۔

ان لوگوں میں، خصوصاً بڑھاپے میں، وہ حلیہ دکھائی دیتا ہے جسے ہم عام طور پر یہودی شکل و صورت کہتے ہیں۔ اگرچہ حقیقت میں یہ مخصوص شکل شاید صرف یہوداہ (Judah) کے لوگوں میں زیادہ نمایاں تھی، جنہوں نے موآب کے ساتھ تجارتی تعلقات کے ذریعے حِتّی لوگوں جیسی ناک اور چہرے کے خد و خال حاصل کیے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کے لوگوں میں نیلی آنکھیں اور سرخ بال بھی پائے جاتے تھے۔

لیکن اس دعوے (کہ افغان بنی اسرائیل کے نسل سے ہے) کے حق میں کسی قسم کا قطعی ثبوت موجود نہیں ہے، اور غالباً کبھی ایسا ثبوت سامنے بھی نہیں آ سکے گا۔

ان کے نام بہت حد تک یہودی ناموں جیسے ہیں، اگرچہ مسلمان نام بھی بڑی تعداد میں انہی بائبلی ناموں سے لیے گئے ہیں۔ تاہم شاید یہ بائبلی نام دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں ان کے درمیان زیادہ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ مثلاً: Joseph — یوسف, Jacob — یعقوب, Jesus — عیسیٰ, Moses — موسیٰ, Abraham — ابراہیم۔

یہ نام ان لوگوں میں دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ سننے کو ملتے ہیں۔

ان کے ایک رسم و رواج سے بھی اس روایت کو کچھ تقویت ملتی ہے، کیونکہ مسلمانوں میں صرف یہی لوگ ایسی ایک تقریب مناتے ہیں جو یہودی عیدِ فسح (Passover) سے کسی حد تک مشابہ ہے۔

بہرحال، یہ لوگ، یعنی افغانوں کی اولاد، نسبتاً جدید زمانے میں اس ملک کو اپنا نام دے گئے جو اس سے پہلے مختلف ادوار میں کابلستان، زابلستان اور خراسان کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اسی طرح ’’افغان‘‘ کا نام پورے پشتو بولنے والے لوگوں کے لیے بھی استعمال ہونے لگا۔

مآخذ

  1. 1.The Romance of the Indian Frontiers — Sir George MacMunn