
وانا کے بلند پہاڑی خطے اور ٹانک کے میدانی اخراج کے درمیان واقع "شاہور تنگی" کا تنگ چٹانی درہ سرحد کی عسکری تاریخ کے خونریز ترین معرکوں کا گواہ رہا ہے۔ اس کے مشرقی دہانے پر سرویکئی کی تاریخی چوکی واقع ہے، جہاں بلند و بالا عمودی چٹانوں نے حملہ آور افواج کے قافلوں کے لیے ایک قدرتی پھندا بنا رکھا تھا۔
شاہور تنگی میں پہلا بڑا گھات اپریل 1921ء میں لگایا گیا جب وانا سے واپس آنے والے قافلے پر حملہ ہوا، اور تین ماہ بعد اونچی چٹانوں سے دیسی بم گرا کر گاڑیوں کو ناکارہ بنا دیا گیا جبکہ اچانک آنے والے پہاڑی سیلاب نے امدادی فوج کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔
قبائلیوں کی سب سے بڑی فوجی کامیابی اپریل 1937ء میں پیش آئی۔ نامور محسود جنگجو کونیا خان کی قیادت میں مجاہدین نے چٹانوں پر ایسے اونچے مورچے سنبھالے جہاں بکتر بند گاڑیوں کی مشین گنیں اوپر نہیں اٹھ سکتی تھیں۔ صبح کے وقت 50 گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر اچانک حملہ کیا گیا جس میں 52 برطانوی اور ہندوستانی فوجی بشمول کمانڈر اور تمام سینئر برطانوی افسران مارے گئے۔
اکتوبر 1947ء میں تقسیم کے پرآشوب دنوں میں وانا سے سکھ اور گورکھا سپاہیوں کے انخلاء کے دوران آفریدی اسکاؤٹس نے اس خطرناک درے میں ان کی حفاظت کی۔ قبائلی غیرت اور "ننگ" کے ضابطے کے تحت آفریدی جوانوں نے شدید حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے ان سپاہیوں کی بحفاظت واپسی کو ممکن بنایا۔
1993ء میں جب جیمز اسپین اس درے سے گزرے تو انہوں نے لکھا کہ اگرچہ شاہور تنگی کی چٹانوں میں ماضی کے معرکوں کی گونج باقی ہے، لیکن یہ درہ وزیرستان کے قبائل کی عسکری حکمتِ عملی اور لازوال شجاعت کی ایک زندہ یادگار ہے۔
مآخذ
- 1.Pathans of the Latter Day — James W. Spain, Chapter 7: Waziristan: Less Dark and Bloody
- 2.The Frontier Scouts — Charles Chenevix Trench
