عسکری تاریخ اور فارورڈ پالیسی

رزمک چھاؤنی، فقیر آف ایپی کی مزاحمت، اور نہرو کے دورے سے قیامِ پاکستان تک

برطانوی فوج کی رزمک چھاؤنی کا قیام، حاجی میرزاعلی خان (فقیر آف ایپی) کی گوریلا جنگ، 1946ء میں جواہر لعل نہرو کا طوفانی دورہ اور آزادی کے بعد قبائل اور پاکستان کا تاریخی معاہدہ۔

مستند مآخذجیمز ڈبلیو اسپین / پوھان عسکری تاریخ ڈیسک · 30 August 2026 · 7 منٹ مطالعہ
رزمک چھاؤنی، فقیر آف ایپی کی مزاحمت، اور نہرو کے دورے سے قیامِ پاکستان تک

پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانوی حکومت نے سرحد پر اپنی حکمت عملی تبدیل کی جسے "رزمک پالیسی" کہا جاتا ہے۔ میدانی علاقوں سے عارضی فوجی مہمات بھیجنے کے بجائے انگریزوں نے محسود علاقے کے عین قلب میں رزمک کے مقام پر ایک بہت بڑی مستقل فوجی چھاؤنی قائم کی۔ اس چھاؤنی میں 15 ہزار برطانوی اور ہندوستانی فوجی، توپ خانہ اور بکتر بند گاڑیاں تین تہوں پر مشتمل خاردار تاروں اور رات دن جلنے والی سرچ لائٹس کے پہرے میں تعینات رہتی تھیں۔

اس زبردست فوجی طاقت کے باوجود 1936ء سے 1938ء کے دوران وزیرستان میں ایک عظیم جنگ چھڑ گئی جس کی قیادت وزیر قبیلے کے نامور روحانی و عسکری رہنما حاجی میرزاعلی خان المعروف "فقیر آف ایپی" نے کی۔ گوربیکت کے ناقابل تسخیر غاروں سے فقیر ایپی نے ایسی گوریلا جنگ لڑی جس نے 30 ہزار سے زائد باقاعدہ فوج اور درجنوں لڑاکا طیاروں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

1946ء کے اواخر میں پنڈت جواہر لعل نہرو خان عبدالغفار خان کے ہمراہ قبائل کو متحدہ ہندوستان میں شامل کرنے کی مہم پر رزمک پہنچے۔ متحدہ وزیر و محسود قبائلی جرگے نے نہرو کے طیارے پر فائرنگ کی، ان کے جلسے میں سخت احتجاج کیا اور دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر وہ کسی رہنما سے بات کریں گے تو وہ مسلم لیگ کے قائد اعظم محمد علی جناح ہوں گے۔

اگست 1947ء میں پاکستان کے قیام کے فوراً بعد قائد اعظم نے تاریخی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رزمک اور قبائلی علاقوں سے تمام باقاعدہ فوج کو واپس بلانے (Operation Curzon) کا حکم دیا۔ اس کے بدلے میں قبائل نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا تاریخی معاہدہ کیا جس کے تحت اندرونی قبائلی خودمختاری برقرار رہی اور امن و امان کی ذمہ داری مقامی خاصہ دار فورس کے سپرد کی گئی۔

1960ء میں جب فقیر آف ایپی کا انتقال ہوا تو لندن کے اخبار "دی ٹائمز" نے اپنے اداریے میں لکھا: "وہ اصول پرست اور درویش صفت انسان تھا جو قبائلی حریت پسندی کا روح رواں اور سپہ سالار تھا۔"

مآخذ

  1. 1.Pathans of the Latter DayJames W. Spain, Chapter 7: Waziristan: Less Dark and Bloody
  2. 2.The Times Obituary, 20 April 1960London Press

پوھان کا ہر ریکارڈ ان لوگوں، مقامات، واقعات اور مآخذ سے جڑا ہے جن کا وہ ذکر کرتا ہے۔