
پشتون لوک موسیقی جنوبی اور وسطی ایشیا کی روایتی موسیقی میں ایک بالکل منفرد اور الگ مقام رکھتی ہے۔ برصغیر کی کلاسیکی راگ داری کے برعکس پشتون لوک دھنوں کا ٹیمپو اور سر مغربی موسیقی کے اسکیلز سے حیرت انگیز مشابہت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی افسروں اور سیاحوں کے کانوں کو پشتون دھنیں ہمیشہ مانوس اور انتہائی پرکشش معلوم ہوئیں۔
بسٹر گڈون خٹک قبیلے کی شاخ "بارک" کی موسیقی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ وہ بے مثال نغمہ نگار اور گلوکار تھے۔ ان کی محفلیں بنیادی طور پر دو سازوں پر مشتمل ہوتیں: ہلکی تھاپ پر بجنے والا ڈھول اور پشتونوں کا روایتی ساز "رباب"۔ رباب کے تاروں پر وہ تاریخ کے عظیم ہیروؤں، نامور باغیوں اور عشقیہ داستانوں کو سروں میں ڈھالتے تھے۔
سرحد (خیبر پختونخوا) پر ایک منفرد تاریخی روایت یہ قائم ہوئی کہ برطانوی فوجی بینڈ ماسٹرز نے کئی پشتو لوک دھنوں کو باقاعدہ فوجی مارچ کی دھنوں میں تبدیل کر دیا۔ جب دشوار گزار پہاڑی راستوں پر پورا بینڈ لے جانا ممکن نہ ہوتا تو دو سرنائیوں اور دو ڈھولوں پر مشتمل مختصر دستہ فوج کے آگے یہی پشتو دھنیں بجاتا ہوا چلتا۔
ان میں سب سے زیادہ شہرت پانے والی دھن "زخمی دل" تھی۔ نوآبادیاتی مصنفین نے اسے رومانوی رنگ دینے کے لیے بعض اوقات "The Bleeding Heart" کا نام دیا، لیکن پشتو میں لفظ "زخمی" کا درست مفہوم گھائل دل ہی ہے۔ یہ نغمہ برٹش انڈین آرمی کے دستوں میں ایک یادگار اور سحر انگیز ترانے کے طور پر گونجتا رہا۔
پشتون گائیکی کا روایتی طریقہ کار یہ ہے کہ مرکزی گلوکار ایک شعر پڑھتا ہے اور کورس (ہم نوا) اس کے اختتام پر "وائے، وائے، وائے" کے نعرے کے ساتھ تکرار کرتے ہیں۔ بعض اوقات کورس میں سے کوئی نوجوان اٹھ کر مخصوص تال پر رقص کے چند پیچیدہ قدم اٹھاتا ہے اور سر کے بالوں کو جھٹکے دیتا ہے، جو قبائلی بہادری اور نغمگی کا ایک خوبصورت امتزاج پیش کرتا ہے۔
مآخذ
- 1.Life Among the Pathans (Khattaks) — Buster Goodwin, Chapter VI
