زبانی تاریخ اور یادداشتیں

گل بادشاہ اور نعیم شاہ کا المیہ: پہلی جنگ عظیم اور دوستی کی لازوال قربانی

پہلی جنگ عظیم کے میسوپوٹیمیا محاذ پر پیش آنے والا دو خٹک سپاہیوں کی دوستی، رحم اور دردناک قربانی کا سچا واقعہ جس نے پشتو کے ایک لازوال المیہ گیت کو جنم دیا۔

مستند مآخذبسٹر گڈون / پوھان زبانی تاریخ آرکائیو · 30 August 2026 · 6 منٹ مطالعہ
گل بادشاہ اور نعیم شاہ کا المیہ: پہلی جنگ عظیم اور دوستی کی لازوال قربانی

خٹک قبیلے کے روایتی لوک گیتوں میں "گل بادشاہ کا گیت" ایک انتہائی دردناک اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ بسٹر گڈون نے اپنی یادداشتوں میں اس سچے واقعے کو قلمبند کیا ہے، جو پہلی جنگ عظیم کے دوران پشتون ولی کے قبائلی ضابطوں، سامراجی جنگ اور دوستی کی عظیم قربانی کی داستان بیان کرتا ہے۔

اس واقعے کے دو مرکزی کردار، گل بادشاہ اور نعیم شاہ، خٹک علاقے کے گاؤں "غورزندی" کے رہنے والے تھے۔ پشتونوں کی روایتی دشمنی (بدل) کے تحت ان کے خاندانوں کے درمیان پرانی دشمنی چلی آ رہی تھی۔ اگرچہ ذاتی طور پر ان میں کوئی جھگڑا نہ تھا، لیکن قبائلی اصول کے مطابق وہ ایک دوسرے کے روایتی دشمن سمجھے جاتے تھے۔

جب 1914ء میں پہلی جنگ عظیم چھڑی تو دونوں نوجوان برٹش انڈین آرمی میں بھرتی ہوئے اور اتفاق سے ایک ہی رجمنٹ میں شامل کر دیے گئے۔ روزمرہ کی رفاقت نے ان کے درمیان گہرا احترام پیدا کیا۔ ایک دن گل بادشاہ نے نعیم شاہ سے کہا: "نعیم، ہم روایتی طور پر دشمن ہیں، لیکن چونکہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، آؤ جب تک ہم فوج میں ہیں اس دشمنی کو بھول جائیں اور اسے صرف اپنے گاؤں تک محدود رکھیں۔" نعیم شاہ نے پشتو کے روایتی محاورے میں جواب دیا: "پہ دواړو سترګو" (میری دونوں آنکھوں پر، یعنی پورے دل سے)۔

دونوں کی دوستی جلد ہی لازوال محبت میں بدل گئی۔ بعد ازاں ان کی بٹالین کو عثمانی ترک فوج کے خلاف میسوپوٹیمیا (عراق) کے خونی محاذ پر بھیج دیا گیا۔ ترک خندقوں پر ایک شدید حملے کے دوران گل بادشاہ گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گیا۔

فیلڈ ہسپتال میں ناقابل برداشت درد کی حالت میں تڑپتے ہوئے گل بادشاہ نے اپنے گہرے دوست نعیم شاہ سے التجا کی کہ وہ اسے خنجر مار کر اس اذیت ناک تڑپ سے نجات دلا دے۔ نعیم شاہ نے پہلے انکار کیا کہ وہ اپنے جگری یار کو کیسے مارے اور لوگ اسے خاندانی دشمنی کا بدلہ سمجھیں گے۔ لیکن گل بادشاہ نے دوستی کا واسطہ دے کر کہا: "میں جاں بلب ہوں اور ناقابل برداشت عذاب میں ہوں۔ اگر تجھے میری دوستی کا ذرا بھی پاس ہے تو میری یہ آخری التجا پوری کر۔"

نعیم شاہ نے دل پر پتھر رکھ کر اپنے تڑپتے ہوئے دوست کو اذیت سے نجات دلائی۔ بدقسمتی سے ایک دوسرے سپاہی نے یہ دیکھ لیا اور اسے خاندانی دشمنی کا نتیجہ سمجھ کر رپورٹ کر دیا۔ نعیم شاہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ مقدمے کے دوران قید میں نعیم شاہ نے یہ دردناک گیت لکھا جس میں اس نے اپنی پاکیزہ دوستی اور مجبوری کا احوال بیان کیا۔ یہ گیت آج بھی پشتو زبانی تاریخ کا ایک لازوال شاہکار مانا جاتا ہے۔

مآخذ

  1. 1.Life Among the Pathans (Khattaks)Buster Goodwin, Chapter VI

پوھان کا ہر ریکارڈ ان لوگوں، مقامات، واقعات اور مآخذ سے جڑا ہے جن کا وہ ذکر کرتا ہے۔